جمعرات 3 ستمبر 2026 - 06:00
امریکہ انسانی حقوق کا جھوٹا دعویدار؛ میناب کے بعد شادی کی تقریب پر حملہ

حوزہ/ انسانی حقوق کا دعویٰ کرنے والے امریکہ کی جانب سے سیریک میں ایک شادی کی تقریب کو نشانہ بنانا اور متعدد بے دفاع شہریوں کی شہادت و زخمی ہونے کے واقعے نے ایک بار پھر خطے میں استکباری طاقتوں کے پُرتشدد اور انسانیت دشمن چہرے کو بے نقاب کردیا۔ یہ ایسا سانحہ ہے جس نے عالمی اداروں کی خاموشی کے سائے میں دو خاندانوں کے باہمی رشتے کی خوشی کو گہرے سوگ میں بدل دیا اور ایرانی قوم کی سلامتی و خودمختاری کے دشمنوں کی جارحانہ فطرت کو آشکار کر دیا۔

حوزہ نیوز ایجنسی: سیریک شہر میں ایک شادی کی تقریب کو نشانہ بنائے جانے کے افسوسناک واقعے میں متعدد غیر نظامی شہری شہید اور زخمی ہوئے۔ اس واقعے نے ایک بار پھر خطے میں انسانی حقوق کے جھوٹے دعویداروں کا اصل چہرہ دنیا کے سامنے پیش کر دیا۔ مکران کے ساحلی علاقے میں پیش آنے والے اس واقعے نے دو خاندانوں کے ازدواجی رشتے کی خوشی کو گہرے سوگ میں بدل دیا اور اس خطے کے عوام کے دلوں پر گہرا زخم چھوڑ دیا۔

امریکہ انسانی حقوق کا جھوٹا دعویدار؛ میناب کے بعد شادی کی تقریب نشانہ

ایک ایسے وقت میں جب سیریک کے خاندان اپنی قدیم روایات کے مطابق شادی کی خوشیاں منانے کے لیے جمع ہوئے تھے، یہ حملہ تمام انسانی اور اخلاقی اصولوں کو پامال کرتے ہوئے بے دفاع شہریوں کی سلامتی کے خلاف گہری دشمنی اور جارحانہ ذہنیت کا مظہر بن گیا۔ اس حملے میں نشانہ کوئی فوجی مرکز یا عسکری ہدف نہیں تھا، بلکہ خاندان کا پُرامن ماحول اور معاشرتی زندگی کا تقدس تھا۔ جس تقریب میں خوشی، موسیقی اور جشن کی آوازیں گونجنی تھیں، اسے میزائل حملے کے ذریعے خون میں نہلا دیا گیا۔

اس ہولناک جرم پر عالمی برادری اور نام نہاد انسانی حقوق کے علمبردار اداروں کی خاموشی ایک بار پھر استکباری طاقتوں کے دوہرے معیار کی تصدیق کرتی ہے۔

امریکہ انسانی حقوق کا جھوٹا دعویدار؛ میناب کے بعد شادی کی تقریب نشانہ

یہ واقعہ محض ایک مقامی سانحہ نہیں، بلکہ ان بے گناہ لوگوں کے خلاف منظم ناانصافی کی علامت ہے جو مزاحمت کے خطے میں زندگی بسر کر رہے ہیں اور بیرونی مداخلت کے مقابل اپنی آزادی اور عزت کے تحفظ کے لیے بھاری قیمت ادا کر رہے ہیں۔

ان بچوں کا تصور ہی اس سانحے کی گہرائی کو واضح کرنے کے لیے کافی ہے جو اس رات موسیقی اور معصوم قہقہوں کے بجائے دھماکوں کی ہولناک آواز، گرد و غبار اور اپنی ماؤں کی آہ و بکا سننے پر مجبور ہوئے۔

اس طرح کے جرائم ہرمزگان کے عوام کے عزم کو کمزور نہیں کر سکتے، بلکہ اس کے برعکس انہیں استکباری محاذ کی مکروہ حقیقت سے مزید آگاہ کرتے ہیں اور دشمن کی سازشوں کے مقابل اتحاد اور بیداری کی ضرورت کو مزید اجاگر کرتے ہیں۔

میڈیا، دینی اور ثقافتی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس جرم کے مختلف پہلوؤں کو عالمی رائے عامہ کے سامنے واضح کریں، تاکہ سیریک کے مظلوم خاندانوں کی فریاد دشمن کے میڈیا شور میں کبھی دب نہ جائے۔

اس سانحے میں شہید ہونے والوں کی یاد کو زندہ رکھنا ان لوگوں کے لیے کم از کم خراجِ عقیدت ہے جن کی زندگیاں استکباری محاذ کی توسیع پسندانہ اور ناجائز خواہشات کی بھینٹ چڑھ گئیں۔

امریکہ انسانی حقوق کا جھوٹا دعویدار؛ میناب کے بعد شادی کی تقریب نشانہ

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha